قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1334 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَقِيلَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: رات کا قیام(نماز تہجد)

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1334.   حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ شریف تشریف لائے تو لوگ فوراً آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے (جمگھٹا ہوگیا) لوگوں نے (خوشی سے ایک دوسرے کو) کہا: اللہ کے رسول ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی آپ کی زیارت کے لئے گیا جب میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہٴ اقدس کو توجہ سے دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں۔ نبی ﷺ نے سب سے پہلے جو کلام فرمایا، وہ یہ تھا: ’’لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلایا کرو، رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو تم نماز پڑھا کرو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘