قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1645 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَأُتِيَ بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

 

تمہید کتاب  (

باب: شک کے دن روزہ رکھنا منع ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1645.   حضرت صلہ بن زفر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: ہم لوگ عمار ؓ کی خدمت میں حاضر تھے اور دن وہ تھا جس میں شک کیا جاتا ہے۔ آپ کی خدمت میں ایک (پکائی ہوئی) بکری پیش کی گئی۔ بعض لوگ (کھانے سے اجتناب کرتے ہوئے) ایک طرف ہوگئے۔ عمار ؓ نے فرمایا: جس نے اس دن روزہ رکھا، اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔‘‘