قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ تَزْوِيجِ ذَاتِ الدِّينِ)

حکم : ضعیف جداً

ترجمة الباب:

1859 .   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ لِحُسْنِهِنَّ، فَعَسَى حُسْنُهُنَّ أَنْ يُرْدِيَهُنَّ، وَلَا تَزَوَّجُوهُنَّ لِأَمْوَالِهِنَّ، فَعَسَى أَمْوَالُهُنَّ أَنْ تُطْغِيَهُنَّ، وَلَكِنْ تَزَوَّجُوهُنَّ عَلَى الدِّينِ، وَلَأَمَةٌ خَرْمَاءُ سَوْدَاءُ ذَاتُ دِينٍ أَفْضَلُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: دین والی عورت سے نکاح کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1859.   حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرو، ممکن ہے ان کا حسن انہیں (تکبر میں مبتلا کر کے) تباہ کر دے، ان سے ان کے مال کی وجہ سے نکاح نہ کرو، ممکن ہے ان کا مال انہیں سرکش بنا (کر گناہوں میں مبتلا کر) دے، البتہ ان کے دین کو پیش نظر رکھتے ہوئے نکاح کیا کرو۔ ایک سیاہ فام، ناک کٹی، دین دار لونڈی (خوبصورت، بے دین آزاد عورت سے) افضل ہے۔