قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ خِيَارِ الْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ)

حکم : حسن صحیح

ترجمة الباب:

2076 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا، وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ» وَقَالَ «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جب لونڈی کو آزاد کیا جائے تو اسے ( نکاح قائم رکھنے یا فسخ کرنے کا ) اختیار ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2076.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت بریرہ‬ ؓ ک‬ی وجہ سے تین سنتیں قائم ہوئیں (اور تین شرعی مسائل معلوم ہوئے:) (ایک یہ کہ) جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا۔ اور ان کا خاوند غلام تھا۔ (دوسری یہ کہ) لوگ انہیں صدقہ دیتے تھے، وہ (اس سے کچھ) نبی ﷺ کو ہدیہ دے دیتی تھیں۔ نبی ﷺ فرماتے تھے: یہ اس پر صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ (تیسری یہ کہ) نبی ﷺ نے فرمایا: ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔