موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ)
حکم : صحیح
218 . حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ، اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ عُمَرُ، فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى، قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَاضٍ، قَالَ عُمَرُ، أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت
باب: قرآن کا علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے والے کی فضیلت
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
218. حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ ؓ سے روایت ہے کہ عسفان کے مقام پر حضرت نافع بن عبدالحارث ؓ نے حضرت عمر ؓ سے ملاقات کی۔ انہیں حضرت عمر ؓ نے مکہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: آپ وادئ مکہ کے باشندوں پر (ان کے معاملات کی دیکھ بھال کے لئے) اپنا نائب کسے مقرر کر کے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے ابن ابزی ؓ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: ابن ابزی کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا: ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں۔ عمر ؓ نے فرمایا: آپ نے ایک مولیٰ کو ان پر حاکم مقرر کر دیا؟ انہوں نے کہا: وہ کتاب اللہ کے عالم ہیں، علم میراث کے بھی عالم ہیں، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تمہارے نبی ﷺ نے (واقعی سچ) فرمایا تھا: ’’اللہ تعالیٰ اس کتاب (کے علم اور اس پر عمل) کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو بلند مقام عطا فرمائے گا اور اس (سے اعراض کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو پست (اور ذلیل) کر دے گا۔‘‘