قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْأَيْمَانِ فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2208 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: «الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: خرید و فروخت کے وقت قسمیں کھانا مکروہ ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2208.   حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کون ہیں؟ وہ تو ناکام رہے اور بہت خسارے میں رہے۔ آپ نے فرمایا: اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے تک) لٹکانے والا، (کوئی چیز) دے کر احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنے مال کی رغبت دلانے والا۔