قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2394 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: صدقہ میں دی ہوئی چیز وراثت میں مل جائے تو ( کیا حکم ہے ؟)

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2394.   حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد (حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ کے طور پر دی تھی۔ اب والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تجھے اجر دے دیا اور وہ (لونڈی) وراثت کے طور پر تیرے پاس واپس آ گئی۔