موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ الِانْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ)
حکم : ضعيف إلا المرفوع منه فهو حسن
257 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْ نَهْشَلٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ، وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ، لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ، وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ، فَهَانُوا عَلَيْهِمْ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا، هَمَّ آخِرَتِهِ، كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ».
سنن ابن ماجہ:
کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت
باب: علم سے فائدہ اٹھانا اور اس پر عمل کرنا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
257. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر علماء علم کی حفاظت کرتے اور اسے اہل لوگوں کے سامنے پیش کرتے تو (اس کی برکت سے) اپنے زمانے والوں کے سردار بن جاتے ۔ لیکن انہوں نے علم دنیاداروں کی خدمت میں پیش کر دیا تاکہ اس کے ذریعے سے ان کی دنیا میں سے کچھ حاصل کر لیں، چنانچہ وہ ان (کی نگاہوں) میں بے قدر ہوگئے۔ میں نے تمہارے نبی ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: ’’جس شخص نے اپنے تمام تفکرات کو ایک ہی فکر یعنی فکر آخرت میں ڈھال لیا، اللہ اسے دنیا کے تفکرات سے بچا لیتا ہے، اور جسے مختلف معاملات دنیاوی کی فکر رہتی ہے (اور وہ ان میں مشغول ہو کر آخرت کو فراموش کر دیتا ہے) اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ کس وادی میں جا کر تباہ ہوتا ہے۔‘‘