موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَاب دِيَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةً)
حکم : حسن
2628 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، سَمِعَهُ مِنَ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَأِ، قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً، فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَدَمٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ، أَلَا إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهُمَا لِأَهْلِهِمَا كَمَا كَانَا»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: قتل شبہ عمد کی دیت مغلظہ(سخت ہے)
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2628. عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اسی اکیلے نے (دشمنوں کی) تمام جماعتوں کو شکست دی۔ سنو! قتل خطا کی صورت میں، یعنی کوڑے اور لاٹھی سے مرنے والے کی دیت (خون بہا) سو انٹ ہیں۔ ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔ سنو! دور جاہلیت میں جو بھی چیزیں قابل فخر سمجھی جاتی تھیں اور جاہلیت میں واقع ہونے والے خون ( وہ سب) میرے ان دو قدموں کے نیچے ہیں، سوائے کعبہ شریف کی خدمت اورحاجیوں کو پانی پلانے کے منصب کے۔ میں انہیں ان کے ذمہ داروں کے لیے اسی طرح قائم رکھتا ہوں جس طرح وہ پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔