موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْمُحْرِمِ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ)
حکم : صحیح
2934 . حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2934. حضرت عبداللہ بن حنین ؓ سے روایت ہےکہ مقام ابواء پرحضرت عبداللہ بن عباس اورحضرت مسور بن مخرمہ کے درمیان (ایک مسئلہ میں) اختلاف ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓکہتے تھےکہ محرم سردھو سکتا ہے جبکہ حضرت مسور کہتے تھے کہ محرم سر نہیں دھو سکتا۔ (حضرت عبداللہ بن حنین ؓنے کہا) حضرت عبداللہ بن عباس نے مجھے یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لیے حضرت ابوایوب انصاری ؓ کے پاس بھیجا۔ میں نے انہیں کنویں کی دو لکڑیوں کے پاس غسل کرتے پایا۔ انہوں نے ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں۔ مجھے عبداللہ بن عباس ؓ نے آپ کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ رسول اللہﷺ احرام کی حالت میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟ حضرت ابو ایوب ؓ نے ہاتھ رکھ کراس اتنا نیچے کر دیا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھراس شخص کو جو (نہانے میں مدد دیتے ہوئے) آپ پر پانی ڈال رہا تھا، فرمایا پانی ڈالو۔ اس نےآپ ؓکے سر پر پانی ڈالا تو آپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر (کےبالوں) کو حرکت دی ۔آپ اپنے ہا تھوں کو آ گے کی طرف بھی لائے اور پیچھےبھی لے گئے۔ پھر فرمایا میں نے آپ ﷺکو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔