موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ مَنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، بِمِحْجَنِهِ)
حکم : حسن
2947 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَكَسَرَهَا ثُمَّ قَامَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ فَرَمَى بِهَا وَأَنَا أَنْظُرُهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلا م کرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2947. حضرت صفیہ بنت شیبہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: فتح مکہ کےسال جب رسول اللہﷺکو (فتح سے متعلق معاملات نپٹا کر) اطمنان حاصل ہوا تو آپﷺ نےاوانٹ پر سوارہو کر طواف کیا۔ (اس دو ران میں) نبیﷺاپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ساتھ استلام کرتے تھے، پھرآپﷺ کعبہ شریف کے اندرداخل ہوئے تو اس کے اندرکھجور کی لکڑی سے بنی ہوئی ایک کبوتری نظر آئی۔ آپﷺ نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اسے (کعبہ سے باہر) پھینک دیا ۔اور میں رسول اللہﷺکو (کبوتری کا بت کعبہ سے باہر پھینکتے) دیکھ رہی تھی۔