قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْوُقُوفِ بِجَمْعٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3023 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ جَابِرٌ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا، بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَقَالَ: «لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي، لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: مزدلفہ میں ٹھہرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3023.   حضرت جابر ؓ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا: حجۃ الوداع میں نبیﷺ (مزدلفہ سے) واپس لوٹے تو آپﷺ پر اطمینان و سکون کی کیفیت تھی۔ آپﷺ نے لوگوں کو بھی سکون کا حکم دیا۔ اور انھیں ایسی (چھوٹی) کنکریوں کے ساتھ رمی کرنے کا حکم دیا جو انگلیوں میں پکڑ کر پھینکی جا سکیں۔ آپﷺ نے وادئ محسر میں سواری کو تیز کیا اور فرمایا: ’’میری امت کو چاہیے کہ اپنے عبادت کے طریقے سیکھ لے۔ مجھےمعلوم نہیں کہ میں اس سال کے بعد ان سے (حج میں) ملاقات نہ کر سکوں۔‘‘