موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ قَدْرِ حَصَى الرَّمْيِ)
حکم : صحیح
3029 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ «الْقُطْ لِي حَصًى» فَلَقَطْتُ لَهُ سَبْعَ حَصَيَاتٍ، هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ، فَجَعَلَ يَنْفُضُهُنَّ فِي كَفِّهِ وَيَقُولُ «أَمْثَالَ هَؤُلَاءِ، فَارْمُوا» ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: جمرات کو کتنی بڑی کنکریاں ماری جائیں؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3029. حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جمرۂ عقبہ کو رمی کرنے کے دن صبح کے وقت رسول اللہ ﷺاپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ تب آپﷺ نے فرمایا: ’’مجھے کنکریاں چن دو۔‘‘ میں نے آپﷺ کو سات کنکریاں چن دیں، جو انگلیوں میں پکڑ کر پھینکنے کے قابل تھیں۔ رسول اللہ ﷺ انھیں اپنے ہاتھ میں لے کر حرکت دینے لگے اور فرمایا: ’’ان جیسی کنکریاں مارو۔‘‘ پھر فرمایا: ’’لوگو! دین میں غلو (اور حد سے بڑھنے) سے پرہیز کرو۔ تم سے پہلے لوگوں کودین میں غلو ہی نے تباہ کیا ہے۔‘‘