قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ مِنْ أَيْنَ تُرْمَى جَمْرَةُ الْعَقَبَةِ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

3031 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ».

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: بڑے جمرے پر کنکریاں کہاں کھڑے ہوکر ماری جائیں؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3031.   حضرت سلیمان بن عمرو بن احوص ؓ اپنی والدہ (حضرت ام جندب ازدیہ ؓ) سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا: میں نے قربانی کے دن نبیﷺ کو جمرۂ عقبہ (بڑے جمرے) کے پاس دیکھا۔ آپﷺ وادی کے نشیبی حصے میں چلے گئے اورجمرے کو سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر (اللہ اکبر) کہتے تھے، پھر واپس تشریف لے گئے۔