قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

3061 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَالِسًا، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: مِنْ زَمْزَمَ، قَالَ: فَشَرِبْتَ مِنْهَا، كَمَا يَنْبَغِي؟ قَالَ: وَكَيْفَ؟ قَالَ: إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا، فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَتَنَفَّسْ ثَلَاثًا، وَتَضَلَّعْ مِنْهَا، فَإِذَا فَرَغْتَ، فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ آيَةَ مَا بَيْنَنَا، وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ، إِنَّهُمْ لَا يَتَضَلَّعُونَ، مِنْ زَمْزَمَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: زمزم کا پانی پینا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3061.   حضرت محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓکے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا۔ انھوں نے پوچھا: کہاں سے آئےہو؟ اس نے کہا :زمزم سے۔ فرمایا: کیا تم نے اس میں اس طرح پیا ہے جس طرح پینا چاہے؟ اس نے کہا: وہ کس طرح ہے؟فرمایا: جب تو اس چاہ (زمزم) سے پانی پیے تو قبلےکی طرف منہ کر، اللہ کا نام لے، تین سانس لے اور سیبر ہو کر پی۔  جب تو پی چکے تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کر کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہمارےاور منافقوں کے درمیان (پہچان کےلے ) یہ علامت ہے کہ وہ زمزم سیر ہو کر نہیں پیتے۔،،