قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3436 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: «عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ، إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ، مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ» فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ لَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: «تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ، سُبْحَانَهُ، لَمْ يَضَعْ دَاءً، إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْهَرَمَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: اللہ نے ہر بیماری کی شفا (حاصل کرنے کی دوا) نازل کی ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3436.   حضرت اسامہ بن شریک ( ثعلبی )ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں (مجلس میں) موجود تھا جب اعرابی نبی ﷺ سے سوالات کررہے تھے: کیا فلا ں کام کرنے میں ہم پر گناہ ہے ؟ کیا فلاں کام کرنے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اللہ کے بندو! اللہ نے حرج (تنگی ) کودور کردیا ہے مگر جس نے اپنے بھائی کی عزت میں سے ایک حصہ کاٹ لیا، یہی ہے جس نے گناہ کیا۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں اس بات سے گناہ ہوگا کہ ہم (بیماری سے شفا کے لیے) دوا (استعمال ) نہ کریں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے بندو! (شفا کے لیے) دوا (استعمال ) کیا کرو، اللہ سبحانہ وتعالی نے جو بیماری بنائی ہے، اس کی شفا ( کے لیے دوا) بھی بنائی ہے، سوئے شدید بڑھاپے کے‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! بندے کو سب سے بہتر چیز کیا عطا ہوئی ہے ؟ فرمایا: ’’اچھا اخلاق۔‘‘