قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ مَوْضِعِ الْإِزَارِ أَيْنَ هُوَ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3573 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي الْإِزَارِ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ وَمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ يَقُولُ ثَلَاثًا لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: تہبند کی صحیح جگہ کون سی ہے؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3573.   حضرت عبدالرحمنٰ بن یعقوب جہنی حرقی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نےحضرت ابوسعید ؓ سے کہا: آپ نے رسول ﷺ سے تہبند کے بارے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپﷺ فرما رہے تھے: مومن کا تہبند (شلوار، پینٹ اور پائجامہ وغیرہ) اس کی پنڈلیوں کے نصف تک (بلند) ہوتا ہے۔ اس جگہ اور ٹخنوں کے درمیان رکھنے میں اس پر گناہ نہیں۔ اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے۔ نبی ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی: جوشخص تکبر کے ساتھ تہبند (زمین پر) گھسٹیے گا اللہ تعالیٰ کی طرف (رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا۔