موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْفِتْنَةِ)
حکم : صحیح
3958 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ وَمَوْتًا يُصِيبُ النَّاسَ حَتَّى يُقَوَّمَ الْبَيْتُ بِالْوَصِيفِ؟» - يَعْنِي الْقَبْرَ - قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ - أَوْ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ: «تَصَبَّرْ» قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ، وَجُوعًا يُصِيبُ النَّاسَ، حَتَّى تَأْتِيَ مَسْجِدَكَ فَلَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ، وَلَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - أَوْ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ - قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْعِفَّةِ» ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ، وَقَتْلًا يُصِيبُ النَّاسَ حَتَّى تُغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ بِالدَّمِ؟» قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، قَالَ: «الْحَقْ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا آخُذُ بِسَيْفِي، فَأَضْرِبَ بِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، قَالَ: «شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا، وَلَكِنِ ادْخُلْ بَيْتَكَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ دُخِلَ بَيْتِي؟ قَالَ: «إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ، فَيَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ، فَيَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: قتنے اور آزمائش کے وقت حق پرجمے رہنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3958. حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! اس وقت تو کیا کرے گا جب لوگوں میں موت کثرت سے واقع ہو گی حتی کہ ایک گھر، یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہو گی؟ میں نے کہا: (میں وہی کچھ کروں گا) جو کچھ میرے لیے اللہ اور اس کا رسول پسند فرمائیں۔ یا میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں (کہ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔) آپﷺ نے فرمایا: صبر کرنا۔ پھر آپ نے فرمایا: تو کیا کرے گا جب لوگوں کوبھوک کا سامنا ہو گا حتی کہ تو مسجد میں آئے گا تو تجھ سے اپنے بستر تک واپس نہیں پہنچا جائے گا اور تو اپنے بستر سے اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ تک نہیں جا سکے گا؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یا کہا: جو کچھ اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: عفت اختیار کرنا۔ پھر فرمایا: تو کیا کرے گا جب لوگوں میں قتل و غارت عام ہو گی حتی کہ حجارۃ الزیت (کا مقام) خون میں ڈوب جائے گا؟ میں نے کہا: جو کچھ اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: تو جس قبیلے سے ہے اسی میں جا رہنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیوں نہ میں تلوار لے کر ان لوگوں کو قتل کروں جو یہ (فاسد) کریں گے؟ آپﷺ نے فرمایا: تب تو تُو لوگوں کے ساتھ (جنگ و جدل میں) شریک ہو گیا، بلکہ اس صورت حال میں تو اپنے گھر میں داخل ہو جانا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اگر لوگ میرے گھر میں گھس آئیں تو؟ آپ5 نے فرمایا: اگر تجھے خطرہ ہو کہ تلوار کی چمک تجھ پر غالب آ جائے گی تو اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا۔ تب وہ (فسادی قاتل) اپنا اور تیرا گناہ اٹھا لے جائے گا اور وہ جہنمی ہو جائے گا۔