موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْفِتْنَةِ)
حکم : حسن صحیح
3960 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ - مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ حُرْدَانَ - قَالَ: حَدَّثَتْنِي عُدَيْسَةُ بِنْتُ أُهْبَانَ، قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ هَاهُنَا الْبَصْرَةَ، دَخَلَ عَلَى أَبِي، فَقَالَ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَلَا تُعِينُنِي عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ أَخْرِجِي سَيْفِي، قَالَ: فَأَخْرَجَتْهُ، فَسَلَّ مِنْهُ قَدْرَ شِبْرٍ، فَإِذَا هُوَ خَشَبٌ، فَقَالَ: «إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا كَانَتِ الْفِتْنَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَتَّخِذُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ، فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ مَعَكَ» ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيكَ وَلَا فِي سَيْفِكَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: قتنے اور آزمائش کے وقت حق پرجمے رہنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3960. حضرت عدیسہ بنت اُہبان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت علی ؓ یہاں بصرہ میں تشریف لائے تو میرے والد (حضرت اہبان بن صیفی غفاری ؓ) کے پاس بھی آئے، انہوں نے فرمایا: ابو مسلم! (اُہبان ؓ) کیا آپ ان لوگوں (حضرت معاویہ ؓ اور ان کے ساتھیوں) کے خلاف میری مدد نہیں کریں گے؟ اُہبان ؓ نے کہا: کیوں نہیں، پھر اپنی ایک لونڈی کو بلا کر کہا: لونڈی! میری تلوار نکال۔ وہ تلوار لے آئی۔ انہوں نے میان سے ایک بالشت تلوار باہر نکالی تو (معلوم ہوا کہ) وہ لکڑی کی تھی۔ انہوں نے فرمایا: میرے محبوب اور تیرے چچا کے بیٹے (رسول اللہ ﷺ ) نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ جب مسلمانوں میں باہم فتنہ و فساد برپا ہو جائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کے ساتھ (لکڑی کی تلوار لے کر) چلنے کو تیار ہوں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: مجھے نہ تو آپ کی ضرروت ہے اور نہ آپ کی تلوار کی۔