موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ كَفِّ اللِّسَانِ فِي الْفِتْنَةِ)
حکم : صحیح
3969 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: مَرَّ بِهِ رَجُلٌ لَهُ شَرَفٌ، فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: إِنَّ لَكَ رَحِمًا، وَإِنَّ لَكَ حَقًّا، وَإِنِّي رَأَيْتُكَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْأُمَرَاءِ، وَتَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِهَا سُخْطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ» قَالَ عَلْقَمَةُ: فَانْظُرْ وَيْحَكَ مَاذَا تَقُولُ؟ وَمَاذَا تَكَلَّمُ بِهِ، فَرُبَّ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِي أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: فتنے کے زمانے میں زبان کو ( نامناسب باتوں سے) روک کر رکھنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3969. حضرت علقمہ بن وقاص سے روایت ہے، ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا جو (معاشرے میں) اونچا مقام رکھتا تھا۔ علقمہ نے اس سے کہا: تیرا (مجھ سے) قرابت کا تعلق ہے اور (مجھ پر) تیرا حق ہے۔ (اس لیے نصیحت کے طور پر بات کر رہا ہوں۔) میں نے دیکھا ہے کہ تو ان حکمرانوں کے پاس جاتا ہے، اور ان سے، جو اللہ چاہے، بات چیت کرتا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت بلال بن حارث مُزنی ؓ سے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اللہ کو راضی کرنے والی ایک بات کرتا ہے، وہ نہیں سمجھتا کہ اس کا وہاں تک اثر ہو گا جہاں تک (حقیقت میں) ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اللہ عزوجل اس کے لیے قیامت تک اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے۔ اور ایک آدمی اللہ کی ناراضی والی ایک بات کرتا ہے، وہ نہیں سمجھتا کہ اس کا وہاں تک اثر ہو گا جہاں تک (حقیقت میں) ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اللہ عزوجل اس کے لیے اس دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے جس دن اس سے ملاقات ہو گی۔ علقمہ نے کہا: اس لیے دیکھ لیا کر کہ تو کیا کہہ رہا ہے اور کیا کچھ منہ سے نکال رہا ہے، تیرا بھلا ہو۔ مجھے تو بلال بن حارث ؓ سے سنی ہوئی یہ حدیث کئی باتین کہنے سے روک دیتی ہے۔