موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ)
حکم : صحیح
3984 . حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمَى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ، فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: مشتبہ کام کرنے سے رک جانا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3984. امام شعبی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کو منبر پر اپنے کانوں کی طرف انگلیوں سے اشارہ کر کے یہ فرماتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: حلال واضح ہے اور حرام (بھی) واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں، جن سے اکثر لوگ واقف نہیں۔ تو جس نے شبہ والی چیزوں سے اجتناب کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو کوئی شبہ والی چیزوں میں مبتلا ہو گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو جائے گا، جیسے ممنوعہ چراگاہ کے اردگرد بکریاں چرانے والا، ہو سکتا ہے کہ (نادانستہ طور پر) اس کے اندر (جانور) چرا لے (اور اس طرح مجرم قرار پا جائے۔) خبردار! ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے (جس میں عام لوگوں کے جانوروں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔) خبردار! اللہ کی ممنوعہ چراگاہ سے مراد اللہ کی حرام کردہ چیزیں (اور کام) ہیں۔ سن لو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سنو! وہ دل ہے۔