قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4238 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قُلْتُ فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا قَالَتْ وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينَ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: نیک عمل پردوام اورہمیشگی اختیار کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4238.   ام المو منین حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے۔ انھو ں نے فرمایا: میرے پا س ایک عورت (بیٹھی) تھی کہ نبی ﷺ میرے پا س (گھر میں) تشریف لا ئے تو آپﷺ نے فرمایا۔ یہ خا تون کون ہے؟ میں نے کہا: فلاں صاحبہ ہیں جو سوتی نہیں۔ ام المو منین نے ان کی نماز تهجد کا ذ کر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا ’’یا ٹھہرو وہی چیز اختیا ر کرو جس کی تمھیں طا قت ہو قسم ہے اللہ کی، اللہ نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم خو د اکتا جاؤ۔ ام المومنین بیان کرتی ہیں نبی ﷺ کو دین کا وہ کام زیادہ پسند تھا جس پر وہ عمل کرنے وا لا دوام کرے۔