قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

4267 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ يَبْكِي حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: قبر کا اٰور جسم کے گل سڑ جانے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4267.   حضرت عثمان ؓ کے آزاد کر دہ غلا م حضرت ہانی بربری ؓ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا: ’’حضرت عثمان بن عفان ؓجب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہو جاتی کسی نے کہا: آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں ۔ تو آ پ کو رونا نہیں آتا اور اس (قبر) کو دیکھ کر روتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے- اگر آدمی اس سے نجات پا گیا تو بعد والے مراحل اس سے آ سان ہوں گے۔ اگر اس سے نجا ت نہ پا سکا تو بعد کے مراحل اس سے زیا دہ دشوار ہو ں گے۔ وہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ میں نے جو بھی منظر کبھی دیکھا ہے۔ قبر اس سے زیا دہ ہولنا ک ہے۔‘‘