موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ صِفَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍﷺ)
حکم : صحیح
4284 . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لَا فَيُقَالُ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَ هَذَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ قَالَ فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا(البقرہ:143)
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل
باب: امت محمد ﷺ کی صفا ت
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4284. حضرت ابو سعید رضی للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا۔ اس کے ساتھ صرف دو آدمی ہوں گے۔ (جو اس پر ایمان لائے) اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ صرف تین آدمی ہوں گے۔ (اسی طرح تمام نبیوں ؑ کے ساتھ) زیادہ اور کم افراد ہوں گے۔ نبی سے کہا جائے گا کیا تم نے اپنی قوم کو (اللہ کے احکام) پہنچادیےتھے۔؟ وہ نبی فرمائے گا! ہاں۔ اس قوم کو بلا کرکہا جائےگا کیا اس نے تمھیں (اللہ کے احکام) پہنچا دیے تھے؟ وہ کہیں گے نہیں (نبی سے) کہا جائے گا: آپ کا گواہ کون ہے۔؟ وہ فرمائے گا: حضرت محمد ﷺ اور ان کی اُمت۔ محمدﷺ کی امت سے کہا جائے گا کہ کیا اس نبی نے (اپنی قوم کو اللہ کے) احکام پہنچائے تھے؟ مومن کہیں گے ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمھیں کیا معلوم؟مومن کہیں گے ہمارے نبی ﷺ نے خبر دی تھی کہ انبیائے کرام ؑ نے (اپنی اپنی امت کو اللہ کے احکام) پہنچائے تھے۔ ہم نے نبی ﷺ کو سچا تسلیم کیا۔ اللہ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے۔ ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ ’’اور (جیسے ہم نے تمھیں ہدایت دی۔ اسی طرح ہم نے تمھیں افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ۔اور رسول تم پر گواہ ہوں‘‘