قسم الحديث (القائل): قدسی ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4339 .   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ حَبْوًا فَيُقَالُ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى فَيَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهَا مَلْأَى فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَكَانَ يُقَالُ هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جنت کی کیفیات

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4339.   حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مجھے معلوم ہے کہ کونسا جہنمی سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا اور کون سا جنتی سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔ ایک آدمی جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا۔ اسے کہا جائے گا۔ جا جنت میں داخل ہوجائےگا۔ وہ آئے گا تو اسے محسوس ہوگا جنت بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا یا رب وہ تو بھری ہوئی ہے۔ اللہ فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا۔ وہ (دوبارہ) آئے گا تو اسے محسوس ہوگا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس ہوجائے گا اور عرض کرے گا۔ میرے رب! وہ تو بھر ی ہوئی ہے۔اللہ پاک فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا۔ وہ آئے گا تو اسے محسوس ہوگا۔ کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ پھر جا کر عرض کرے گا۔ میرے مالک! وہ تو بھری ہوئی ہے۔ اللہ فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہوجا تجھے دنیا کے برابر اور (مزید) اس سے دس گنا جگہ ملے گی۔ یا فرمایا: تجھے دنیا سے دس گنا جگہ ملے گی۔ بندہ کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یا مجھ سے ہنستا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟‘‘ صحابی فرماتے ہیں: میں نے دیکھا رسو ل اللہ ﷺ خوب ہنسے حتیٰ کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں۔ پس کہا جاتا تھا: یہ شخص سب سے کم درجے کا جنتی ہے۔