قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ وَقْتِ صَلَاةِالْعِشاَءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

692.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز عشاء کا وقت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

692.   جناب حمید ؒ سے روایت ہے، ا نہوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ایک رات آپ ﷺ نے عشاء کی نماز کو آدھی رات کے قریب تک مؤخر کیا۔ جب نماز پڑھ چکے تو چہرہٴ مبارک ہماری طرف کر کے فرمایا: ’’لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم جب تک نماز کے انتظار میں رہو گے (ثواب کے اعتبار سے) نماز ہی میں ( شمار) ہوگے۔‘‘ حضرت انس ؓ نے فرمایا: (مجھے اب بھی وہ منظر یاد ہے) گویا نبیﷺ کی انگوٹھی کی چمک میری نظروں کے سامنے ہے۔