موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي)
حکم : صحیح
945 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيِّ يَسْأَلُهُ: مَا سَمِعْتَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي، كَانَ لَأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ» قَالَ: لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا «خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
945. حضرت بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا زید بن خالد ؓ نے سیدنا ابو جہیم انصاری ؓ کی خدمت میں پیغام بھیجا (کہ یہ بتایئے) آپ نے نبی ﷺ سے نمازی کے آگے سے کسی کے گزرنے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: ’’اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ جب اس کا بھائی نماز پڑھ رہا ہو تو اس (نمازی) کے آگے سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو چالیس۔۔۔۔ معلوم نہیں چالیس سال فرمایا، یا چالیس ماہ یا چالیس دن۔۔۔ تک ٹھہرنے کو بہتر سمجھے۔‘‘