2 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْأَطْعِمَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ​

حکم: ضعیف

1931 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ وَكَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ لِسِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْأَئِمَّةِ عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ هَذَا الْحَدِيث...

جامع ترمذی: كتاب: کھانے کے احکام ومسائل (باب: گرے ہوئے لقمہ کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1931. ام عاصم کہتی ہیں: ہمارے پاس نبیشہ الخیرآئے،ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھارہے تھے، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جوشخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے توپیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف معلی بن راشد کی روایت سے جانتے ہیں۔۲۔ یزید بن ہارون اورکئی ائمہ حدیث نے بھی یہ حدیث معلی بن راشد سے روایت کی ہے۔...


3 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ تَنْقِيَةِ الصَّحْفَةِ

حکم: ضعیف

3381 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ، فَلَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

(باب: پلیٹ صاف کرنا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3381. حضر ام عاصم‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ حضرت نبیثہ بن عبد اللہ ؓ ہمارے ہاں تشریف لائے جب کہ ہم ایک پیالے میں کھانا کھارہے تھے۔ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص پیالے میں کھانا کھائے، پھر اس( پیالے) کو چاٹ لےتو پیالہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔‘‘...


4 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ تَنْقِيَةِ الصَّحْفَةِ

حکم: ضعیف

3382 حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُ: نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ، وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ لَنَا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ»...

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

(باب: پلیٹ صاف کرنا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3382. حضرت ابو الیمان معلیٰ بن راشد ؓ اپنی دادی (ام عاصم) ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے قبیلہ ہذیل کے ایک صاحب حضرت نبیثہ الخیر ؓ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہم ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے کہ نبیثہ ؓ تشریف لے آئے۔ انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا: ’’جو شخص پیالے میں کھانا کھا کر اسے چاٹتا ہے، پیالہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔‘‘...