1 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابٌ فِي الْخُلْعِ

حکم: صحیح

2228 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَضَرَبَهَا فَكَسَرَ بَعْضَهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الصُّبْحِ، فَاشْتَكَتْهُ إِلَيْهِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتًا، فَقَال:َ >خُذْ بَعْضَ مَالِهَا وَفَارِقْهَا<، فَقَالَ: وَيَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ ق...

سنن ابو داؤد:

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

(باب: خلع کے احکام و مسائل)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2228. ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے مروی ہے کہ حبیبہ بنت سہل، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس کی زوجیت میں تھی تو ثابت نے اس کو مارا اور اس کا کچھ توڑ بھی دیا، تب وہ فجر کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور شوہر کی شکایت کی۔ پس نبی کریم ﷺ نے ثابت کو بلایا اور فرمایا: ”اس سے کچھ مال لے لو اور اس کو علیحدہ کر دو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ صحیح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: میں نے اس کو مہر میں دو باغ دیے ہیں اور وہ اسی کے قبضے میں ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ دونوں لے لو اور اسے علیحدہ کر دو۔“ چنانچہ انہوں نے ایس...


2 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِيَانَةِ وَالْغِشِّ​

حکم: حسن

1940 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ لُؤْلُؤَةَ عَنْ أَبِي صِرْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ...

جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: خیانت اوردھوکہ دہی کابیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1940. ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جودوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللہ تعالیٰ اسے تکلیف دے گا ' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔۲۔ اس باب میں ابوبکر سے بھی روایت ہے۔


3 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِيَانَةِ وَالْغِشِّ​

حکم: ضعیف

1941 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا فَرْقَدُ السَّبَخِيُّ عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ الْهَمْدَانِيِّ وَهُوَ الطَّيِّبُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَكَرَ بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ...

جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: خیانت اوردھوکہ دہی کابیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1941. ابوبکرصدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص ملعون (یعنی اللہ کی رحمت سے دور) ہے جس نے کسی مومن کو نقصان پہنچایا یا اس کو دھوکہ دیا‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔


4 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْأَحْكَامِ بَابُ مَنْ بَنَى فِي حَقِّهِ مَا يَضُرُّ بِجَارِهِ

حکم: صحیح

2340 حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ

سنن ابن ماجہ: کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل (باب: اپنی زمین میں ایسی عمارت بنانا جس سے ہمسائے ک...)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2340. حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا: نہ (پہلے پہل) کسی کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا جائز ہے، نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا۔