مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 8
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 8
1 صحيح مسلم كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُ...
حکم: صحیح
2995.02 حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ...
صحیح مسلم:
کتاب: زہد اور رقت انگیز باتیں
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
2995.02. سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی شخص کو نماز میں جمائی آئے تو وہ جتنا اس کے بس میں ہو اس کو روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوتا ہے۔‘‘...
2 صحيح مسلم كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُ...
حکم: صحیح
2995.03 و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ
صحیح مسلم:
کتاب: زہد اور رقت انگیز باتیں
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
2995.03. جریر نے سہیل سے، انھوں نے اپنے والد اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ (آگے) بشراور عبدالعزیز کی حدیث کے مانند۔
3 سنن أبي داؤد كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ
حکم: صحیح
5026 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ عَنِ ابْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ, فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ<.
سنن ابو داؤد:
کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
5026. سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو چاہیئے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے، بلاشبہ (اس میں) شیطان داخل ہو جاتا ہے۔“
4 سنن أبي داؤد كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ
حکم: صحیح
5027 - حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ... نَحْوَهُ، قَالَ:> ...فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ<.
سنن ابو داؤد:
کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
5027. جناب سہیل ؓ سے مذکورہ بالاحدیث کی مانند مروی ہے (مگر اس میں ہے) ”جمائی اگر نماز میں آئے تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھنے کی کوشش کرے۔“
5 جامع الترمذي أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّثَاؤُبِ فِي ا...
حکم: صحیح
370 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ»وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، وَجَدِّ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ،: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «إِنِّي لَأَرُدُّ التَّثَاؤُبَ بِالتَّنَحْنُحِ» ...
جامع ترمذی: كتاب: نماز کے احکام ومسائل (باب: نماز میں جمائی لینے کی کراہت کا بیان)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
370. ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابو ہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عدی بن ثابت کے دادا (عبید بن عازب) سے بھی احادیث آئی ہیں۔۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے نماز میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں۔ ...
6 جامع الترمذي أَبْوَابُ الْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الْعُطَاسَ فِي الصَّلاَةِ مِ...
حکم: ضعیف
2748 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنْ الشَّيْطَانِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قُلْتُ لَهُ مَا اسْمُ جَدِّ عَدِيٍّ قَالَ لَا أَدْرِي وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ اسْمُهُ دِينَارٌ...
جامع ترمذی: کتاب: آداب واحکام کا بیان (باب: نمازمیں چھینک شیطان کی جانب سے آتی ہے)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
2748. ثابت کے باپ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’نماز میں چھینک، اونگھ، جمائی، حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہوتا ہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔۲۔ ہم اسے صرف شریک کی روایت جانتے ہیں جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں۔۳۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس روایت (عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ) کے تعلق سے پوچھا کہ عدی کے دادا کا کیا نام ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، لیکن یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام دین...
7 سنن ابن ماجه كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلَاةِ
حکم: موضوع - بهذا اللفظ، وصحيح بدون " ولا يعوى "
968 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنْبَأَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ وَلَا يَعْوِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ...
سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (باب: جو اعمال نماز میں مکروہ ہیں)
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
968. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے اور آواز نہ نکالے کیوں کہ شیطان اس سے ہنستا ہے۔‘‘
8 سنن ابن ماجه كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلَاةِ
حکم: ضعیف
969 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبُزَاقُ، وَالْمُخَاطُ، وَالْحَيْضُ، وَالنُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ، مِنَ الشَّيْطَانِ» ...
سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (باب: جو اعمال نماز میں مکروہ ہیں)
مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)
969. حضرت عدی بن ثابت انصاری اپنے والد سے اور وہ عدی کے نانا (سیدنا عبداللہ بن یزید بن زید خطمی انصاری ؓ) سے روایت کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نماز میں تھوکنا، ناک صاف کرنا، حیض آ جانا اور اونگھ آنا شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘
مجموع الصفحات: 1 - مجموع أحاديث: 8
کل صفحات: 1 - کل احادیث: 8