1 ‌سنن النسائي كِتَابُ الْمَسَاجِدِ بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءَ وَالصَّلَاةِ فِيهِ

حکم: صحیح

697 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ وَقَالَ الْآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مَسْجِدِي هَذَا...

سنن نسائی:

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل

(باب: مسجد قباء اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت)

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

697. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں کا اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کی بنیاد شروع دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے۔ دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میری مسجد (مسجد نبوی) ہے۔“