2 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا، ...

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2950 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الخَمِيسِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: جہاد کا بیان

(باب : لڑائی کا مقام چھپانا ( دوسرا مقام بیان کرنا ...)

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2950. حضرت کعب بن مالک  ؓ سے مزید روایت ہے کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے۔ اور آپ ﷺ جمعرات کے روز سفر کرنا پسند کرتے تھے۔


5 ‌سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الِابْتِكَارِ فِي السَّفَرِ

حکم: صحیح

2606 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا<. وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا، بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَار،ِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ. قَالَ أَبو دَاود: وَهُوَ صَخْرُ بْنُ وَدَاعَةَ....

سنن ابو داؤد:

کتاب: جہاد کے مسائل

(باب: سفر کے لیے صبح صبح نکلنا ( مستحب ہے ))

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2606. سیدنا صخر غامدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اﷲ! میری امت کے لیے ان کی صبحوں میں برکت ڈال دے۔“ چنانچہ آپ ﷺ کو کوئی مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ فرماتے۔ اور سیدنا صخر ؓ ایک تاجر صحابی تھے، تو وہ اپنے کارندوں کو دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے تھے، چنانچہ وہ مالدار ہو گئے تھے اور ان کا مال خوب بڑھ گیا تھا۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: ان کا نام صخر بن وداعہ ہے۔...


6 ‌جامع الترمذي أَبْوَابُ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُسَافِرَ الر...

حکم: صحیح

1673 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ مِنْ الْوِحْدَةِ مَا سَرَى رَاكِبٌ بِلَيْلٍ يَعْنِي وَحْدَهُ...

جامع ترمذی: كتاب: جہاد کے احکام ومسائل (باب: تنہاسفرکرنے کی کراہت کا بیان​)

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1673. عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمرکی حدیث حسن صحیح ہے۔