1 ‌سنن النسائي كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ غَسْلِ الْمَيِّتِ بِالْحَمِيمِ

حکم: ضعیف الإسناد

1882 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ قَالَتْ تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ لَا تَغْسِلْ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عَمِرَتْ مَا عَمِرَتْ...

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

(باب: میت کوگرم پانی سے غسل دینا)

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1882. حضرت ام قیس‬ ؓ ف‬رماتی ہیں کہ میرا بیٹا فوت ہوگیا۔ مجھے اس پر سخت صدمہ ہوا۔ میں نے غسل دینے والے سے کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دینا کہ تو اسے مار دے۔ (میرا بھائی) حضرت عکاشہ بن محصن ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور میری یہ بات آپ کو بتائی، آپ مسکرائے اور فرمایا: ”کیا کہا اس نے؟ اس کی عمر لمبی ہو۔“ ہم کوئی اور عورت ایسی نہیں جانتے جسے اس جیسی عمر دی گئی ہو۔...