1 ‌صحيح مسلم كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابُ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ؟

حکم: صحیح

121 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، يَبَكِي طَوِيلًا، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ، فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ، أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَي...

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

(باب: کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟)

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

121. ابن شماسہ مہریؒ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم عمرو بن عاصؓ کے پاس حاضر ہوئے، وہ موت کےسفر پر روانہ تھے، روتے جاتے تھے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف کر لیا تھا۔ ان کا بیٹا کہنے لگا: ابا جان! کیا رسو ل اللہ ﷺ نے آپ کو فلاں چیز کی بشارت نہ دی تھی؟ کیا فلاں بات کی بشارت نہ دی تھی؟ انہوں نے ہماری طرف رخ کیا اور کہا: جو کچھ ہم (آیندہ کے لیے) تیار کرتے ہیں،  یقیناً اس میں سے بہترین یہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسو ل ہیں۔ میں تین درجوں (مرحلوں) میں رہا ۔ (پہلا یہ کہ) میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجھ سے ...


2 ‌سنن ابن ماجه كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ مَا جَاءَ فِي حَثْوِ التُّرَابِ فِي الْقَبْر...

حکم: صحیح

1565 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، ثُمَّ أَتَى قَبْرَ الْمَيِّتِ، فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلَاثًا»...

سنن ابن ماجہ: کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (باب : قبر پر ہاتھوں سے مٹی ڈالنے کا بیان)

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1565. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک میت کا جنازہ پڑھا پھر اس کی قبر پر آئے اور اس کے سر کی طرف سے اس پر (مٹی کی) تین لپیں ڈالیں۔