1 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ بَابٌ:

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ المَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ» قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ الل...

صحیح بخاری:

کتاب: وحی کے بیان میں

(

باب:

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2. ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کبھی تو وحی آنے کی کیفیت گھنٹی کی ٹن ٹن کی طرح ہوتی ہے اور یہ کیفیت مجھ پربہت گراں گزرتی ہے، پھر جب فرشتے کا پیغام مجھے یاد ہو جاتا ہے تو یہ موقوف ہو جاتی ہے۔ اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں میرے پاس آ کر مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے محفوظ کر لیتا ہوں۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: میں نے سخت سردی کے دنوں میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب وحی آتی تو...


2 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ بَابٌ:

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ العَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِه...

صحیح بخاری:

کتاب: وحی کے بیان میں

(

باب:

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3. ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی۔ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا۔ پھر آپ کو تنہائی محبوب ہو گئی، چنانچہ آپ غار حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروف عبادت رہتے۔ آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس واپس آتے اور تقریباً اتنے ہی دنوں کے لیے پھر توشہ لے جاتے۔ یہاں تک کہ ایک روز جبکہ آپ غار حرا میں تھے، (یکایک) آپ کے پاس حق آ گیا اور ایک فرشتے نے آ کر آپ سے ک...


3 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ بَابٌ:

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

3 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ العَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِه...

صحیح بخاری:

کتاب: وحی کے بیان میں

(

باب:

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3. ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی۔ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا۔ پھر آپ کو تنہائی محبوب ہو گئی، چنانچہ آپ غار حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروف عبادت رہتے۔ آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس واپس آتے اور تقریباً اتنے ہی دنوں کے لیے پھر توشہ لے جاتے۔ یہاں تک کہ ایک روز جبکہ آپ غار حرا میں تھے، (یکایک) آپ کے پاس حق آ گیا اور ایک فرشتے نے آ کر آپ سے ک...


4 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ بَابٌ:

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4 قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ: وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا المَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ. قُمْ فَأَنْذِرْ﴾ [المدثر: 2] إِلَى قَوْلِهِ ﴿وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [المدثر: 5]. فَحَمِيَ الوَحْيُ وَتَتَابَعَ تَابَعَهُ عَبْدُ ال...

صحیح بخاری:

کتاب: وحی کے بیان میں

(

باب:

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4. حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زبانی بندش وحی کا واقعہ سنا، آپ نے بیان فرمایا: ’’ایک بار میں (کہیں) جا رہا تھا کہ مجھے اچانک آسمان سے ایک آواز سنائی دی، میں نے نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اسے دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہو گیا۔ گھر لوٹ کر میں نے اہل خانہ سے کہ: مجھے چادر اوڑھاؤ، مجھے چادر اوڑھاؤ۔ (انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔) اس وقت اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی: ’’اے لحاف میں لپٹنے والے! اٹھو اور خبردار کرو، اپنے رب کی ...


5 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ بَابٌ:

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4 قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ: وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا المَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ. قُمْ فَأَنْذِرْ﴾ [المدثر: 2] إِلَى قَوْلِهِ ﴿وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [المدثر: 5]. فَحَمِيَ الوَحْيُ وَتَتَابَعَ تَابَعَهُ عَبْدُ ال...

صحیح بخاری:

کتاب: وحی کے بیان میں

(

باب:

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4. حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زبانی بندش وحی کا واقعہ سنا، آپ نے بیان فرمایا: ’’ایک بار میں (کہیں) جا رہا تھا کہ مجھے اچانک آسمان سے ایک آواز سنائی دی، میں نے نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اسے دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہو گیا۔ گھر لوٹ کر میں نے اہل خانہ سے کہ: مجھے چادر اوڑھاؤ، مجھے چادر اوڑھاؤ۔ (انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔) اس وقت اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی: ’’اے لحاف میں لپٹنے والے! اٹھو اور خبردار کرو، اپنے رب کی ...


6 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ بَابٌ:

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الر...

صحیح بخاری:

کتاب: وحی کے بیان میں

(

باب: 

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے، خصوصاً رمضان میں جب حضرت جبریل سے آپ کی ملاقات ہوتی تو بہت سخاوت کرتے۔ اور حضرت جبریل رمضان المبارک میں ہر رات آپ سے ملاقات کرتے اور آپ ان کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے۔ الغرض رسول اللہ ﷺ صدقہ کرنے میں کھلی (تیز) ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوتے۔...


7 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ بَابٌ:

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الر...

صحیح بخاری:

کتاب: وحی کے بیان میں

(

باب: 

)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے، خصوصاً رمضان میں جب حضرت جبریل سے آپ کی ملاقات ہوتی تو بہت سخاوت کرتے۔ اور حضرت جبریل رمضان المبارک میں ہر رات آپ سے ملاقات کرتے اور آپ ان کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے۔ الغرض رسول اللہ ﷺ صدقہ کرنے میں کھلی (تیز) ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوتے۔...


8 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الإِيمَانِ بَابٌ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

18 حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ العَقَبَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: «بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَ...

صحیح بخاری:

کتاب: ایمان کے بیان میں

(باب:)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

18. حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا بیان ہے، اور یہ بدری صحابی اور عقبہ والی رات کے نقباء میں سے ایک نقیب ہیں، رسول اللہ ﷺ نے، جب کہ آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی، فرمایا: ’’تم سب مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے۔ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے سامنے (دیدہ دانستہ) کسی پر افترا پردازی نہیں کرو گے اور اچھے کاموں میں نافرمانی نہ کرو گے۔ پھر جو کوئی تم میں سے یہ عہد پورا کرے گا، اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان گناہوں میں سے کچھ کر بیٹھے اور اسے دنیا میں اس کی ...


9 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الإِيمَانِ بَابٌ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

18 حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ العَقَبَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: «بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَ...

صحیح بخاری:

کتاب: ایمان کے بیان میں

(باب:)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

18. حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا بیان ہے، اور یہ بدری صحابی اور عقبہ والی رات کے نقباء میں سے ایک نقیب ہیں، رسول اللہ ﷺ نے، جب کہ آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی، فرمایا: ’’تم سب مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے۔ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے سامنے (دیدہ دانستہ) کسی پر افترا پردازی نہیں کرو گے اور اچھے کاموں میں نافرمانی نہ کرو گے۔ پھر جو کوئی تم میں سے یہ عہد پورا کرے گا، اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان گناہوں میں سے کچھ کر بیٹھے اور اسے دنیا میں اس کی ...


10 ‌‌صحيح البخاري كِتَابُ الإِيمَانِ بَابُ: مِنَ الدِّينِ الفِرَارُ مِنَ الفِتَنِ

حکم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

19 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ المُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الجِبَالِ وَمَوَاقِعَ القَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الفِتَنِ.»...

صحیح بخاری:

کتاب: ایمان کے بیان میں

(

باب:اس بیان میں کہ فتنوں سے دور بھاگنا (بھی) دی...)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

19. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ زمانہ قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات کی طرف نکل جائے گا اور فتنوں سے راہ فرار اختیار کر کے اپنے دین کو بچا لے گا۔‘‘...