مجموع الصفحات: 3 - مجموع أحاديث: 25
کل صفحات: 3 - کل احادیث: 25
1 صحيح مسلم كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمّ...
حکم: صحیح
1917 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} [الأنفال: 60]، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ "...
صحیح مسلم:
کتاب: امور حکومت کا بیان
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
1917. ثمامہ بن شُفی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپﷺ منبر پر فرما رہے تھے: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ ﴾ ’’تم ان کے مقابلے کے لیے جتنی کر سکو، قوت تیار کرو۔‘‘ (الانفال 60:8) ’’سن رکھو! قوت تیر اندازی (کا نام) ہے، سن رکھو! قوت تیر اندازی (کا نام) ہے، سن رکھو! قوت تیر اندازی (کا نام) ہے۔‘‘...
2 صحيح مسلم كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمّ...
حکم: صحیح
1919 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ، قَالَ عُقْبَةُ: لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ، قَالَ الْحَارِثُ: فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ: «مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، فَلَيْسَ مِنَّا» أَوْ «قَدْ عَصَى»...
صحیح مسلم:
کتاب: امور حکومت کا بیان
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
1919. حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: آپ (تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا۔ حارث نے کہا: میں نے ابن شماسہ سے پوچھا: وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’جس شخص نے تیر اندازی سیکھی، پھر اس کو ترک کر دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ یا (فرمایا:) ’&rsquo...
3 سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الرَّمْيِ
حکم: ضعیف
2513 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ، الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ، وَارْمُوا، وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، لَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ، إِلَّا ثَلَاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ أَه...
سنن ابو داؤد:
کتاب: جہاد کے مسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
2513. سیدنا عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”اللہ عزوجل ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرتا ہے۔ ایک اس کا بنانے والا، جو اپنی اس صنعت میں اجر و ثواب کا امیدوار ہو۔ دوسرا، تیر مارنے والا (جہاد میں) اور تیسرا وہ جو اسے تیر پکڑانے والا ہو (جو اس کا معاون ہو) تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھو، تاہم مجھے گھوڑ سواری کی نسبت تیر اندازی (نشانہ بازی) زیادہ پسند ہے۔ (شریعت میں) کھیل تین ہی ہیں: ایک یہ کہ انسان اپنے گھوڑے کو سدھائے۔ دوسرا، یہ کہ انسان اپنی بیوی سے کھیلے۔ تیسرا، یہ کہ انسان اپنے تیر کمان سے تیر پھینک...
4 سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الرَّمْيِ
حکم: صحیح
2514 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: >{وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ}[الأنفال: 60], أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ, أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ<....
سنن ابو داؤد:
کتاب: جہاد کے مسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
2514. سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا: (آپ نے سورۃ الانفال کی آیت 60 پڑھی) ”ان کفار کے مقابلے میں جس قدر ہو سکے قوت بہم پہنچاؤ۔“ (اس کی تشریح میں آپ نے فرمایا) ”خبردار! تیر اندازی ہی قوت ہے۔ خبردار! تیر اندازی ہی قوت ہے۔ خبردار! تیر اندازی ہی قوت ہے۔“...
5 سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الصُّفُوفِ
حکم: صحیح
2663 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اصْطَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ-: >إِذَا أَكْثَبُوكُمْ -يَعْنِي: إِذَا غَشُوكُمْ-, فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ، وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ<....
سنن ابو داؤد:
کتاب: جہاد کے مسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
2663. سیدنا حمزہ بن ابی اسید اپنے والد (ابواسید مالک بن ربیعہ انصاری ؓ) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب ہم نے بدر میں صفیں بنا لیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ تمہارے قریب ہوں (تمہاری زد میں آ جائیں) تو تیر مارنا اور اپنے تیروں کو محفوظ رکھنا۔“ (بلا ضرورت تیر نہ چلانا، تاکہ تیر محفوظ رہیں)۔...
6 سنن أبي داؤد كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي سَلِّ السُّيُوفِ عِنْدَ اللِّقَاءِ
حکم: ضعیف
2664 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَجِيحٍ وَلَيْسَ بِالْمَلْطِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَوْمَ بَدْرٍ-: >إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ، وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوفَ، حَتَّى يَغْشَوْكُمْ<...
سنن ابو داؤد:
کتاب: جہاد کے مسائل
مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
2664. سیدنا مالک بن حمزہ ابی اسید الساعدی اپنے والد سے وہ دادا (ابواسید مالک بن ربیعہ انصاری ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بدر والے دن فرمایا: ”جب وہ تمہارے قریب آ جائیں (اور تمہاری زد میں ہوں) تب ان پر تیر مارنا اور تلوار بھی اسی وقت سونتنا جب وہ تم پر چھا جائیں۔“ (اور تلوار کی مار پر ہوں)۔...
7 جامع الترمذي أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ ا...
حکم: ضعیف
1637 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَالْمُمِدَّ بِهِ وَقَالَ ارْمُوا وَارْكَبُوا وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنْ الْحَقِّ ....
جامع ترمذی: كتاب: جہاد کےفضائل کےبیان میں (باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت ک...)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
1637. عبداللہ بن عبدالرحمن ابن ابی الحسین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیربنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیرانداز کو اورتیردینے والے کو‘‘، آپ نے فرمایا: ’’تیرانداز ی کرو اورسواری سیکھو، تمہارا تیراندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اوراپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں‘‘...
8 جامع الترمذي أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ ا...
حکم: ضعیف
1637.01 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ وَعَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ....
جامع ترمذی: كتاب: جہاد کےفضائل کےبیان میں (باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت ک...)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
1637.01. اس سند سے عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں کعب بن مرہ، عمروبن عبسہ اورعبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
9 جامع الترمذي أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ ا...
حکم: صحیح
1638 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ لَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَأَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْسَةَ السُّلَمِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَزْرَقِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ...
جامع ترمذی: كتاب: جہاد کےفضائل کےبیان میں (باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت ک...)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
1638. ابونجیح عمروبن عبسہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیرمارا، وہ (ثواب میں) ایک غلام آزاد کر نے کے برابرہے‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث صحیح ہے۔۲۔ ابونجیح کانام عمروبن عبسہ سلمی ہے۔۳۔ عبداللہ بن ازرق سے مراد عبداللہ بن زید ہیں۔...
10 جامع الترمذي أَبْوَابُ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّهَانِ وَالسَّبَقِ
حکم: صحیح
1700 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
جامع ترمذی: كتاب: جہاد کے احکام ومسائل (باب: گھڑدوڑ میں شرط لگانے کا بیان)
مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)
1700. ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ فرمایا: ’’مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے‘‘ ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
مجموع الصفحات: 3 - مجموع أحاديث: 25
کل صفحات: 3 - کل احادیث: 25