1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ الِاسْتِهَامِ فِي الأَذَانِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

615. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي العَتَمَةِ وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا»...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

(

باب: اذان کے لئے قرعہ ڈالنے کا بیان

)

615.

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور صف اول میں کیا ثواب ہے، پھر وہ اپنے لیے قرعہ ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ پائیں تو ضرور قرعہ اندازی کریں۔ اور اگر لوگوں کو علم ہو کہ نماز ظہر کے لیے جلدی آنے کا کتنا ثواب ہے تو ضرور سبقت کریں۔ اور اگر وہ جان لیں کہ عشاء اور فجر باجماعت ادا کرنے میں کتنا ثواب ہے تو ان دونوں (کی جماعت) میں ضرور آئیں اگرچہ انہیں سرینوں کے بل چل کر آنا پڑے۔‘‘

...

4 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الشَّهَادَاتِ (بَابُ القُرْعَةِ فِي المُشْكِلاَتِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2689. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي العَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا»...

صحیح بخاری:

کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

(

باب : مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا

)

2689.

حضرت ابوہریرہ  ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر لوگوں کو اذان دینے اور صف اول میں کھڑے ہونے کا ثواب علم ہوجائے تو اس کے حصول کے لیے انھیں قرعہ اندازی بھی کرنی پڑے تو وہ اس کا بھی سہارا لیں۔ اگر انھیں معلوم ہو جائے کہ جلدی بروقت نماز پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں۔ اور اگر انھیں معلوم ہوجائے کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کیا ثواب ہے تو ان نمازوں میں ضرور شریک ہوں اگرچہ انھیں گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔‘‘

...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَض...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

437. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

(باب: صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حسا...)

437. حضرت ابو ہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ اگر لوگ جان لیں کہ اذان (کہنے) اور پہلی صف (کا حصہ بننے) میں کیا (خیر وبرکت) ہے، پھر وہ اس کی خاطر قرعہ اندازی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی (بھی) کریں اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر (کی نماز) جلدی ادا کرنے میں کتنا اجر وثواب ملتا ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا ثواب ہے تو ان دونوں نمازوں میں (ہر صورت) پہنچیں چاہے گھسٹ گھسٹ کر آنا پڑے۔‘‘...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَض...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

439. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ - أَوْ يَعْلَمُونَ - مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لَكَانَتْ قُرْعَةً» وَقَالَ ابْنُ حَرْبٍ: «الصَّفِّ الْأَوَّلِ مَا كَانَتْ إِلَّا قُرْعَةً»...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

(باب: صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حسا...)

439. ابراہیم بن دینار اور محمد بن حرب واسطی نے کہا: ہمیں ابو قطن عمرو بن ہیثم نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے خلاس سے، انہوں نے ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ﷜ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اگر تم جان لو، یا لوگ جان لیں کہ اگلی صف میں کیا (فضیلت) ہے تو اس پر قرعہ اندازی ہو۔‘‘ ابن حرب نے (في الصف المقدم لكانت قرعة کے بجائے) في الصف الأول كانت إلا قرعة ’’پہلی صف میں کیا ہے تو قرعہ کے سوا کچھ نہ ہو‘‘ کہا۔...

9 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِمَارَةِ (بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1914. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ» وَقَالَ: "الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "...

صحیح مسلم:

کتاب: امور حکومت کا بیان

(باب: شہداء کا بیان)

1914.

سُمی نے ابوصالح سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک بار ایک شخص کسی راستے پر جا رہا تھا، اس نے راستے میں ایک خاردار شاخ دیکھی تو اس کو (راستے سے) پیچھے کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے عمل کی جزا دی اور اس کو بخش دیا۔" پھر آپ نے فرمایا: "شہید پانچ (قسم کے اشخاص) ہیں: (1) طاعون کی بیماری میں مرنے والا۔ (2) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا۔ (3) ڈوب کر مرنے والا۔ (4) کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا۔ (5) اور جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں (لڑتے ہوئے) شہید ہوا۔"

...

10 صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِمَارَةِ (بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

1914. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ» وَقَالَ: "الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "...

صحیح مسلم:

کتاب: امور حکومت کا بیان

(باب: شہداء کا بیان)

1914.

سُمی نے ابوصالح سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک بار ایک شخص کسی راستے پر جا رہا تھا، اس نے راستے میں ایک خاردار شاخ دیکھی تو اس کو (راستے سے) پیچھے کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے عمل کی جزا دی اور اس کو بخش دیا۔" پھر آپ نے فرمایا: "شہید پانچ (قسم کے اشخاص) ہیں: (1) طاعون کی بیماری میں مرنے والا۔ (2) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا۔ (3) ڈوب کر مرنے والا۔ (4) کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا۔ (5) اور جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں (لڑتے ہوئے) شہید ہوا۔"

...