2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6430. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ، مِنْ شَكْوَى أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى المَوْتِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الوَجَعِ، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: فَبِشَطْرِهِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِ...

صحیح بخاری:

کتاب: دعاؤں کے بیان میں

()

شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6430.

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حجتہ الوادع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میری اس بیماری نے مجھے موت کے قریب کر دیا تھا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ میں صاحب ثروت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی میری وارث ہے۔ کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے عرض کی: اپنا نصف مال دے دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے عرض کی: ایک تہائی دے سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی بہت ہے۔ اگر تم ورثاء کو مال دار چھوڑو تو یہ ...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الدَّعَوَاتِ

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6431. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الحُسَيْنُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَعَوَّذُوا بِكَلِمَاتٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ البُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ القَبْرِ»...

صحیح بخاری:

کتاب: دعاؤں کے بیان میں

()

شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6431.

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ان کلمات کے ذریعے سے اللہ تعالٰی کی پناہ مانگو جن کے ذریعے سے نبی ﷺ پناہ طلب کرتے تھے: ”اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں کنجوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں ناکارہ عمر کی طرف لوٹائے جانے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں دنیا کی آزمائش اور عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔“

...

5 صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ

صحیح

2681. وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا، فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ» قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ «ه...

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

()

پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2681.

مجھے ابو طاہر اوٰر ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی، ہارون نے کہا: ابن وہب نے ہم سے حدیث بیان کی، اور ابو طاہر نے کہا: ہمیں خبر دی۔۔۔ انھوں نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے بتایا، انھوں نے ابو اسود سے اور انھوں نے عروۃ بن زبیر سے روایت کی، انھوں نے کہا: ابو مرواح نے حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنےاندر، سفر میں روزہ رکھنے کی قوت پاتا ہوں، تو کیا مجھ پر (کوئی گناہ) ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ (روزہ ترک کرنا)   اللہ کی طرف سے رخصت ہے تو جس نے...

6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الشَّهَادَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

صحیح

2483. حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا»...

جامع ترمذی:

كتاب: شہادت( گواہی) کے احکام ومسائل

()

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2483.

زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے‘‘۱؎۔

7 سنن النسائي: كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ

صحیح

1823. أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ مَرْوَانَ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ...

سنن نسائی: کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل ()

فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1823.

حضرت ام حبیبہ‬ ؓ س‬ے مروی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ظہر سے پہلے چار اورظہر کے بعد چار رکعات (پابندی سے) پڑھے گا، اسے آگ نہ چھوئے گی۔“ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث غلط ہے۔ صحیح حدیث مروان کی ہے جو وہ سعید بن عبدالعزیز سے بیان کرتے ہیں۔