1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَاب حَدِيثِ الْإِفْكِ )

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

4145. حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ كَيْفَ بِنَسَبِي قَالَ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنْ الْعَجِينِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ سَمِعْتُ هِشَامًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا...

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

(

باب: واقعہ افک کا بیان

)

4145.

حضرت عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس حضرت حسان بن ثابت ؓ کو برا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: ان کو بر بھلا نہ کہو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کا دفع کرتے تھے۔ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: حضرت حسان بن ثابت ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی مذمت کرنے کے متعلق اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ’’میرے نسب کا کیا کرو گے؟‘‘ انہوں نے عرض کی: میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسا کہ گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ دوسری سند کے ساتھ حضرت عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسان بن ثابت ؓ کو برا بھلا کہا کیونکہ وہ واقعہ افک میں ح...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ هِجَاءِ المُشْرِكِينَ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6150. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ المُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكَيْفَ بِنَسَبِي» فَقَالَ حَسَّانُ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ العَجِينِ...

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

(

باب: مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے

)

6150.

سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت حسان بن ثابت ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(مشرکین اور میرا خاندان تو ایک ہے) پھر میرے نسب کا کیا حال ہوگا؟“ حضرت حسان ؓ نے کہا: میں آپ کو ان سے اس طرح نکالوں گا جیسے بال آٹے سے نکالا جاتا ہے۔ ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں حضرت حسان بن ثابت ؓ کو سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس سب وشتم کرنے لگا تو انہوں نے فرمایا: حسان کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا کرتا تھا۔

...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍؓ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

2489. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ حَسَّانُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: «كَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ؟» قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْخَمِيرِ، فَقَالَ حَسَّانُ: [البحر الطويل] وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ ... بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ قَصِيدَتَهُ هَذِهِ...

صحیح مسلم:

کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

(باب: حضرت حسان بن ثابتؓ کے فضائل)

2489.

یحییٰ بن زکریا نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اللہ کےرسول ﷺ! مجھے ابو سفیان (مغیرہ بن حارث بن عبدالمطلب) کی ہجو کرنے کی اجازت دیجئے، آپﷺ نے فرمایا: ’’اس کے ساتھ میری جو قرابت ہے اس کا کیا ہو گا؟‘‘ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا: اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو عزت عطا فرمائی! میں آپ کو ان میں سے اس طرح باہرنکال لوں گا جس طرح خمیر سے بال کو نکال لیا جاتا ہے، پھر حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ قصیدہ کہا: اور آل ...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍؓ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

2490. حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اهْجُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ» فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ: «اهْجُهُمْ» فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ، فَأَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ حَسَّانُ: قَدْ...

صحیح مسلم:

کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

(باب: حضرت حسان بن ثابتؓ کے فضائل)

2490.

ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قریش کی ہجو کرو کیونکہ ہجو ان کو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ ناگوار ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے حضرت (عبداللہ) ابن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پیغام بھیجا ’’تم (کفار) قریش کی ہجو کرو۔‘‘ انہوں نے کفار قریش کی ہجو کی جو آپ ﷺ کواچھی نہ لگی۔ پھر آپﷺ  نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پیغام بھیجا۔ اس کے بعد حضرت حسان بن ثابت کی طرف پیغام بھیجا۔ جب حضرت حسان آپ ﷺ کے پاس آئے توعرض کی: اب وقت آ گیا ہے،  آپ ﷺ نے ...

5 سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الشِّعرِ)

صحیح

5015. - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ لُوَيْنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ وَهِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ, يَهْجُو مَنْ قَالَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ, مَا نَافَحَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ<....

سنن ابو داؤد:

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

(باب: شعر و شاعری کا بیان)

5015.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ ن‬ے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا حسان ؓ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھوا دیا کرتے تھے۔ پس وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ کی مذمت کرنے والوں کی ہجو کیا کرتے تھے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسان جب تک رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کریں، روح القدس (جبرائیل امین) اس کے ساتھ ہیں۔“

...

6 جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ​)

حسن

2846. حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا يُفَاخِرُ أَوْ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى ...

جامع ترمذی: کتاب: آداب واحکام کا بیان (باب: شعر پڑھنے کابیان​)

2846.

ام المومنین عائشہ‬ ؓ ک‬ہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ حسان ؓ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہﷺ کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ’’اللہ حسان کی مدد روح القدس (جبرئیل ؑ) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ (اپنے اشعار کے ذریعہ) رسول اللہ ﷺ کی جانب سے فخر کرتے یا آپﷺ کا دفاع کرتے ہیں‘‘۔

...