1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ إِذَا كَانَ بَيْنَ الإِمَامِ وَبَيْنَ القَوْ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

729. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ، وَجِدَارُ الحُجْرَةِ قَصِيرٌ، فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَقَامَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ، فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، صَنَعُوا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ - أَوْ ثَلاَثًا - حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّ...

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

(

باب: جب امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی دیوار ح...)

729. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نماز تہجد اپنے حجرے میں پڑھا کرتے تھے۔ چونکہ حجرے کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں، اس لیے لوگوں نے نبی ﷺ کی شخصیت کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ نماز کی اقتدا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ پھر صبح کو انہوں نے دوسروں سے اس کا ذکر کیا۔ بعد ازاں دوسری رات نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ اس رات بھی آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو گئے۔ یہ صورت حال دو یا تین راتوں تک رہی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ بیٹھ رہے اور نماز کے لیے تشریف نہ لائے۔ اس کے بعد صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: "مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں ن...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ (بَابُ مَنْ قَالَ فِي الخُطْبَةِ بَعْدَ الثَّنَاءِ:...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

924. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْ...

صحیح بخاری:

کتاب: جمعہ کے بیان میں

(

باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد ک...)

924. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ آدھی رات کے وقت گھر سے نکلے تو مسجد میں آ کر نماز پڑھی۔ کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ صبح کے وقت لوگ باتیں کرنے لگے تو دوسرے روز ان سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز ادا کی۔ صبح کو لوگوں نے ایک دوسرے سے بیان کیا تو تیسری رات ان سے بھی زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر جب چوتھی رات ہوئی تو لوگ اس قدر جمع ہوئے کہ مسجد میں گنجائش نہ رہی۔ رسول اللہ ﷺ نماز فجر کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوئے...

3 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّهَجُّدِ (بَابُ تَحْرِيضِ النَّبِيِّ ﷺ عَلَى صَلاَةِ اللَّيْ...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

1129. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَل...

صحیح بخاری:

کتاب: تہجد کا بیان

(

باب: نبی کریمﷺکا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے...)

1129. ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ہ‬ی سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز (تہجد) ادا کی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر دوسری رات بھی آپ نے اسے مسجد میں ادا کیا تو لوگ زیادہ جمع ہو گئے۔ پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ اس سے بھی زیادہ جمع ہو گئے لیکن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس باہر تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: "میں تمہارے جذبات کو ملاحظہ کرتا رہا لیکن مجھے اس بات نے آپ لوگوں کے پاس آنے سے باز رکھا کہ مبادا نمازِ شب تم پر فرض ہو جائے۔" واضح رہے کہ یہ واقعہ رمضان میں پیش آیا۔...

5 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ صَلاَةِ التَّرَاوِيحِ (بَابُ فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

2012. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَز...

صحیح بخاری:

کتاب: نماز تراویح پڑھنے کا بیان

(باب : رمضان میں تراویح پڑھنے کی فضیلت)

2012. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (رمضان میں)ایک مرتبہ نصف شب کے وقت مسجد میں تشریف لے گئے تو وہاں نماز تراویح پڑھی۔ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ صبح ہوئی تو انھوں نے اس کا چرچا کیا، چنانچہ دوسری رات لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے اور آپ کے ہمراہ نماز (تراویح)پڑھی دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا۔ پھرتیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے۔ نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز (تراویح )اداکی۔ جب چوتھی رات آئی تو اتنے لوگ جمع ہوئے کہ مسجد ...

6 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ الجُلُوسِ عَلَى الحَصِيرِ وَنَحْوِهِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

5861. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ حَتَّى كَثُرُوا، فَأَقْبَلَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَ...

صحیح بخاری:

کتاب: لباس کے بیان میں

(

باب: بورے یا اس جیسی کسی حقیر چیز پر بیٹھنا

)

5861. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کو چٹائی کو دن کے وقت بچھا لیتے اور اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ پھر رات کے وقت کی اقتدا میں نماز ادا کرنے لگے۔ جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! عمل اتنے ہی کیا کرو جس قدر تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتا تا جب تم نہ تھک جاؤ۔ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے، خواہ کم ہی ہو۔ “...

7 صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، وَهُوَ ا...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

761. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

(باب: قیام رمضان کی ترغیب اور وہ تراویح ہے)

761. امام مالکؒ نے ابن شہاب سے روایت کی،انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے(بھی) آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی،پھر آپ نے اس سے اگلی ر ات نماز پڑھی تو لوگوں (کی تعداد)میں اضافہ ہوگیا،پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے۔جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:"جو تم نے کیا میں نے دیکھا،مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ(نماز) تم پر فرض نہ ہوجائے۔" (عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی ...

8 صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، وَهُوَ ا...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

761. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ...

صحیح مسلم:

کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

(باب: قیام رمضان کی ترغیب اور وہ تراویح ہے)

761. امام مالکؒ نے ابن شہاب سے روایت کی،انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے(بھی) آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی،پھر آپ نے اس سے اگلی ر ات نماز پڑھی تو لوگوں (کی تعداد)میں اضافہ ہوگیا،پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے۔جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:"جو تم نے کیا میں نے دیکھا،مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ(نماز) تم پر فرض نہ ہوجائے۔" (عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی ...

9 سنن أبي داؤد: كِتَابُ تَفرِيع أَبوَاب شَهرِ رَمضَان (بَابُ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ)

صحیح

1373. حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ,قَالَ: >قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ,إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ<، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ...

سنن ابو داؤد: کتاب: ماہ رمضان المبارک کے احکام و مسائل (باب: رمضان میں قیام اللیل کے احکام و مسائل)

1373. ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ ز‬وجہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مسجد میں نماز پڑھی ( یعنی رمضان کی رات میں قیام فرمایا ) تو لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ آپ ﷺ نے اگلی رات پھر نماز پڑھی تو لوگ بھی بہت ہو گئے ۔ پھر جب وہ تیسری رات جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے ہی نہیں ۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا ” تم نے جو کیا وہ میں نے دیکھا ہے اور مجھے تمہاری طرف نکلنے سے بس یہی مانع رہا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے ۔ “ اور یہ رمضان کی بات ہے ۔...

10 سنن النسائي: كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ (بَابُ قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ)

صحیح

1604. أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ وَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ...

سنن نسائی: کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل (باب: ماہ رمضان المبارک کی (خصوصی نماز (تراویح))

1604. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز (تراویح) پڑھی۔ کچھ لوگ بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے، پھر اگلی رات آپ نے (مسجد میں) نماز پڑھی تو لوگ پہلے سے زیادہ ہوگئے، پھر تیسری یا چوتھی رات تو سب لوگ ہی جمع ہوگئے لیکن رسول اللہ ﷺ تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’رات جو تم نے کیا میں دیکھ رہا تھا(یعنی تمھارا اجتماع اور ذوق و شوق) مگر مجھے آنے سے یہ چیز مانع تھی کہ مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض ہی نہ کردی جائے۔‘‘ اور یہ رمضان المبارک کی بات ہے۔ ...