تشریح:
فائدہ۔ جب بیع شرعی اصولوں کے تحت ہوئی۔ سودا قطیعت سے طے ہوگیا۔ اور ایک دھوکا ختم ہوگیا۔ تو اس کے بیچنے والا شرعاً واپسی کا پابند نہیں۔ لیکن اخلاق اور خیرخواہی کا تقاضا ہے۔ کہ دوسرا فریق راضی نہیں۔ تو سودا واپس کرلیا جائے۔ کیونکہ تجارت کی بنیاد ہی باہمی رضا مندی پر ہے۔ اس حدیث میں بیان کردہ امر کی فضیلت کا بیان ہے۔ علاوہ ازیں جس دوکاندارکا سودا سچا اور کھرا ہو۔ اس نے بیچا بھی مناسب نفع کے ساتھ ہو۔ اسے سودا واپس کرلینے میں کوئی تعامل نہیں ہوتا۔ صرف وہی دوکاندار سودا واپس لینے سے انکارکرتا ہے۔ جس کا سودا کھوٹا ہو یا اس نے بہت زیادہ منافع لے کر بیچا ہو۔ اس طرح گویا سودا واپس کرلینے کی فضیلت بیان کرنے میں بالواسطہ اس امر کی ترغیب ہے۔ کہ دوکاندار سودا بھی صحیح رکھیں۔ اور بیچیں بھی مناسب نفع کےساتھ تاکہ کوئی واپس کرنا چاہے تو اسے واپس لینے میں تامل نہ ہو۔