قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَتَحْزِيبِهِ وَتَرْتِيلِهِ (بَابُ تَحزِيبِ القُرآنِ)

حکم : صحيح إلا قوله لم ينزل من سبع شاذ لمخالفته لقوله اقرأه في ثلاث

ترجمۃ الباب:

1395.   حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ قَالَ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ قَالَ فِي شَهْرٍ ثُمَّ قَالَ فِي عِشْرِينَ ثُمَّ قَالَ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثُمَّ قَالَ فِي عَشْرٍ ثُمَّ قَالَ فِي سَبْعٍ لَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ

سنن ابو داؤد:

کتاب: قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل 

  (

باب: قرآن مجید کے پارے اور حصے کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1395.   سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کتنے دنوں میں قرآن پڑھا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس دنوں میں“ پھر فرمایا: ”ایک مہینے میں“ پھر کہا: ”بیس دنوں میں۔“ پھر کہا: ”پندرہ دنوں میں“ پھر کہا: ”دس دنوں میں“ پھر کہا: ”سات دنوں میں“ اور سات سے کم نہیں کیا۔