قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ مَنْ يَجُوزُ لَهُ أَخْذُ الصَّدَقَةِ وَهُوَ غَنِيٌّ)

حکم : صحیح لغیرہ

ترجمۃ الباب:

1635.   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَاهَا الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ

سنن ابو داؤد:

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ان لوگوں کا بیان جنہیں غنی ہوتے ہوئے بھی صدقہ لینا جائز ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1635.   جناب عطاء بن یسار ؓ (تابعی) سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ صورتوں کے علاوہ کسی غنی کے لیے صدقہ حلال نہیں۔ جو اللہ کی راہ میں غازی اور مجاہد ہو۔ یا صدقات کا تحصیلدار (وصول کرنے والا) ہو۔ یا چٹی بھرنے والا ہو۔ یا جو اپنے مال سے صدقہ کی چیز خرید لے۔ یا وہ آدمی کہ کوئی مسکین اس کا ہمسایہ ہو، اس مسکین کو صدقہ دیا گیا تو اس نے اس میں سے غنی کو ہدیہ دے دیا ہو۔“