قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ زِيَارَةِ الْقُبُورِ)

حکم : صحیح مقطوع

ترجمۃ الباب:

2045.   حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ قَالَ مَالِكٌ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسِ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِهِ قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَقَ الْمَدَنِيَّ قَالَ الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنْ الْمَدِينَةِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: زیارت قبور کے احکام و مسائل

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2045.   امام مالک نے بیان کیا: مدینہ واپس لوٹنے والے کو لائق نہیں کہ مقام معرّس (بطحاء مسجد ذی الحلیفہ) سے ویسے ہی گزر جائے۔ بلکہ چاہیے کہ جس قدر دل چاہے نماز پڑھے کیونکہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہﷺ رات کے آخری حصے میں یہاں اترتے تھے۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسحاق مدنی سے سنا تھا کہ ’’معرس،، مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔