قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ فِي الْوَلِيِّ)

حکم : لم تتم دراسته

ترجمۃ الباب:

2083.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا, فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا, فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ تَشَاجَرُوا, فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ولی کا بیان ( ولی کے بغیر کسی عورت کا نکاح صحیح نہیں )

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2083.   ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ تین بار فرمایا اگر شوہر اس سے صحبت کر لے تو اس کو مہر دینا پڑے گا بسبب اس کے جو اس نے اس سے فائدہ حاصل کیا۔ اگر (ولیوں کا) جھگڑا ہو جائے تو حاکم ولی ہے اس کا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“