قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّیامِ (بَابُ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2404 .   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ, لِيُرِيَهُ النَّاسَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: سفر میں روزہ رکھنے کے احکام و مسائل

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ أبو عمار عمر فاروق السعيدي (دار السّلام)

2404.   سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے حتیٰ کہ مقام غسفان پر پہنچ گئے، پھر آپ ﷺ نے برتن منگوایا اور اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں (کہ آپ ﷺ افطار کر رہے ہیں) اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔ چنانچہ ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھا ہے اور چھوڑا بھی، سو جو چاہے رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔