قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ (بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3616.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جب دو آدمی کسی چیز کا دعویٰ کریں لیکن ان کے پاس گواہ نہ ہوں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3616.   سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہدو آدمی کسی مال کا تنازع لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لو، جس کا بھی نکل آئے، تمہیں یہ پسند ہو یا نہ۔“ (اس کا یہی حل ہے کہ جو قسم کھائے گا مال لے لے گا)۔