قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابٌ كَيْفَ الرُّقَى)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3890.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ يَعْنِي لِثَابِتٍ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ بَلَى قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

سنن ابو داؤد:

کتاب: علاج کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دم کیسے کیا جائے ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3890.   سیدنا انس ؓ نے جناب ثابت بنانی سے کہا کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا (سکھایا ہوا) دم نہ کروں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ تو انہوں نے کہا: «للَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِهِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے اللہ! لوگوں کے پالنے والے! دکھوں کے دور کرنے والے ! شفاء عنایت فرما، تو ہی شافی ہے، تیرے سوا کوئی شفاء نہیں دے سکتا، اسے شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری نہ رہنے دے۔“