قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي ذِكْرِ الْمِيزَانِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

4755.   حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ, قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ, أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >مَا يُبْكِيكِ؟<، قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ, فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا: عِنْدَ الْمِيزَانِ, حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَوْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ, حِينَ يُقَالُ: {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ}[الحاقة: 19]، حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ, إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ<. قَالَ يَعْقُوبُ: عَنْ يُونُسَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِهِ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: سنتوں کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: ترازو کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4755.   ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ انہوں نے جہنم کا ذکر کیا اور رونے لگیں، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے رلایا ہے؟“ کہنے لگیں: مجھے جہنم یاد آئی ہے تو رونے لگی ہوں۔ تو کیا بھلا آپ قیامت کے روز اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ترازو کے پاس حتیٰ کہ اسے پتا چل جائے کہ اس کا تول ہلکا ہوا یا بھاری، نامہ اعمال ملنے کے وقت، جب کہا جائے گا «هاؤم اقرءوا كتابيه» ”آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو۔“ حتیٰ کہ جان لے کہ اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا بائیں میں یا کمر کے پیچھے سے، اور (تیسرا مقام) پل صراط ہے جب اسے جہنم پر عین وسط میں ٹکایا جائے گا۔“ یعقوب نے «عن يونس» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔