قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّقِّ)

حکم : حسن صحیح

ترجمة الباب:

1557 .   حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ، وَآخَرُ يَضْرَحُ، فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا، وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا، فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا، فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ «فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : صندوقی ( شق والی) قبر کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1557.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی ﷺ فوت ہوئے، اس وقت مدینے میں ایک آدمی لحد والی قبر بنایا کرتا تھا اور آیک آدمی سیدھی (شق والی) قبر بناتا تھا۔ صحابہ نے کہا: ہم اپنے رب سے استخارہ کرتے ہیں (بہتر چیز کی دعا کرتے ہیں) اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں جو پیچھے رہ گیا، اسے چھوڑ دیں گے۔ (اور جو پہلے آ گیا، وہ اپنے طریقے پر قبر تیار کر دے گا) چنانچہ ان دونوں کو پیغام بھیجا گیا تو لحد بنانے والا پہلے آ گیا، چنانچہ صحابہ نے نبی ﷺ کے لیے بغلی قبر تیار کروائی۔